Episode:01
ناول نام: سفر تمام
از قلم: (ایمان الحق)
وہ بیڈ پر سیدھی لیٹی چھت کو گھور رہی تھی ۔اُس کی ساری سوچئے ایک جگہ آ کر رک گی تھی آخر ایسا ہو تو ہو گیا لیکن ہو کیسے گیا اُس کے ساتھ کیسے ہو گیا ۔ایسا ہوتا تو اُس نے صرف لوگوں کے ساتھ دیکھا تھا وہ تو باقی سب لڑکیوں جیسی نہیں تھی تو اُس کے ساتھ کیسے ہو گیا ۔وہ سوچتی جا رہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنی دائیں ہاتھ کی شہداد والی انگلی سے چادر کو کچر رہی تھی اور باری باری ساری انگلیوں سے یہی کام کر رہی تھی۔ایک طرف اُسے یہ لگ رہا تھا کہ اگر اِس میں کچھ غلط ہوتا یا اگر یہ کام غلط ہوتا تو اُسے اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے اشارے مل جاتے ۔اگر اشارے نہیں ملے تو یہ غلط نہیں تھا ۔اور اگر یہ غلط نہیں تھا تو اُسے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ ۔غلط کام کا انجام ہی بھیانک ہوتا ہے یہ غلط تھا تو اِس کا انجام بھی بُرا تھا ۔اور اگر یہ غلط تھا تو اشارہ کیوں نہیں ملا ۔شاید ملا ہو گا اُس نے اُس اشارے کو اشارہ سمجھا ہی نہیں یا اُس پر غورو فکر نہیں کی۔ آج اِس واقعہ کو دو سال ہونے والے تھے۔دو دن سے دو ہفتے اور دو ہفتے سے دو مہینے اور دو مہینے سے دو سال ہو گے ہیں واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا کیوں کہہ بہت دیر ہوں چکی تھی اور اب واپسی کا راستہ طے کرنا بیکار اور مشکل ترین کام تھا اگر ناممکن بولیں تو زیادہ بہتر رہے گالیکن اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی آج بھی اُس کی سوچ پہلے دن پر رکی ہوئی تھی ۔اور یہ سوچ سوچ کر اُس کا دل بیٹھ رہا تھا آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا اگر آج ایسا ہوا بھی ہے تو اِس کا مقصد کیا ہے کہی وہ جو سوچ رہی ہے وہ تو نہیں ہے یہ آخری سوچ آتے ہی اُس کے اوسان خطا ہونے لگتے تھے ۔وہ لیٹی ہوئی ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی۔سر ک درد نے اور لیٹے رہنے کی اجازت نہیں دی درد کی شدت سے دماغ پھٹ رہا تھا سوچے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔چھت پر گھومتا ہوا پنکھا پنکھے سے ہلتی ہوئی چادر باہر سے آتی ہوئی چڑ یوں کی آواز خڑکی سے آتی ہوئی ہوا جو اس کے لمبے بالوں کو ہلا رہی تھی اور خڑکی سے باہر چلتے پھرتے لوگ سب اُسے برے لگ رہے تھی ہر چیز سے اُسے نفرت ہو رہی تھی وہ سوگ میں تھی تو سب خوش کیسے تھی۔سب خوش ہے تو وہ کیوں اندر سے خالی ہو گی ہے ۔
از قلم: (ایمان الحق
Comments
Post a Comment
Thanks